تیل کی قیمت میں اضافہ - آبنائے ہرمز میں حملے
ایران کے حملوں سے تیل 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا


کیا آپ جانتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے؟ بدھ کے روز بٹ کوائن کی قیمت 84 ہزار ڈالر سے نیچے آ گئی۔ اس کی بڑی وجہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے ہیں ۔

تیل کی قیمت 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ اس سے افراط زر کے خدشات بڑھ گئے۔ سرمایہ کاروں نے خطرے سے بچنے کے لیے ڈالر اور امریکی ٹریژری بانڈز کا رخ کیا ۔

بٹ کوائن کی قیمت میں کمی


بٹ کوائن منگل کو تقریباً 86,600 ڈالر تک پہنچا تھا۔ لیکن بدھ کی صبح یہ اچانک 83,840 ڈالر تک گر گیا۔ بعد میں یہ کچھ بحال ہو کر 84,200 ڈالر کے قریب آ گیا ۔

فورچون کے مطابق، صبح 7:15 بجے بٹ کوائن کی قیمت 83,759 ڈالر تھی۔ یہ گزشتہ سال کے اسی وقت کے مقابلے میں تقریباً 37,630 ڈالر کم ہے ۔

کچھ ذرائع کے مطابق، بٹ کوائن 83,248 ڈالر تک بھی گرا، جو 24 گھنٹوں میں 2.8 فیصد کی کمی ہے ۔

آلٹ کوائنز میں زیادہ کمی


بٹ کوائن کے مقابلے میں دیگر کریپٹو کرنسیوں میں زیادہ کمی آئی۔

ڈوج کوائن سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ اس کی قیمت میں 4.98 فیصد کمی آئی۔ یہ ٹاپ ٹین میں سب سے بڑا نقصان تھا ۔

ایتھیریم 2,555 ڈالر تک گر گیا، جو 24 گھنٹوں میں 5.3 فیصد کی کمی ہے ۔ ایکس آر پی تقریباً 2.56 فیصد اور سولانا 4 فیصد سے زیادہ گرا ۔

کریپٹو لیکویڈیشنز


اس کمی نے لیوریجڈ ٹریڈرز کو بری طرح متاثر کیا۔ کوئن گلاس کے اعداد و شمار کے مطابق، 24 گھنٹوں میں 487 ملین ڈالر سے زیادہ کی لانگ پوزیشنز صاف ہو گئیں ۔

کچھ ذرائع کے مطابق، کل لیکویڈیشنز 548 ملین سے 650 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ان میں سے 88 فیصد سے زیادہ لانگ پوزیشنز تھیں ۔

100,000 سے زیادہ ٹریڈرز لیکویڈیٹ ہوئے ۔

تیل کی قیمت میں اضافہ


ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل کے ٹینکروں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق، اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کم از کم 9 حملے ریکارڈ کیے گئے ۔

برینٹ کروڈ 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔ ڈبلیو ٹی آئی 90 ڈالر کے قریب پہنچ گیا ۔

ایران کا مقصد آبنائے ہرمز پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ یہ تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایران کو ہر جہاز کو روکنے کی ضرورت نہیں، صرف یہ یقین دلانا ہے کہ کوئی بھی جہاز محفوظ نہیں ۔

امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ


تیل کی قیمت بڑھنے سے افراط زر کے خدشات بڑھ گئے۔ اس سے امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ ہوا۔

10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.31 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ 2002 کے بعد سب سے بلند سطح ہے۔ 30 سالہ ییلڈ 5.7 فیصد تک گئی ۔

ییلڈز بڑھنے سے سرمایہ کاروں کے لیے بانڈز زیادہ پرکشش ہو جاتے ہیں۔ اس سے بٹ کوائن جیسے غیر پیداواری اثاثوں کی مانگ کم ہوتی ہے ۔

ڈالر کی مضبوطی


عالمی غیر یقینی صورتحال نے ڈالر کو مضبوط کیا۔ ڈالر تمام G10 کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوط ہوا ۔

ڈالر مضبوط ہونے سے بٹ کوائن دوسری کرنسیوں کے حاملین کے لیے مہنگا ہو جاتا ہے۔ اس سے مانگ مزید کم ہوتی ہے ۔

تکنیکی نقطہ نظر


ماہرین کے مطابق، بٹ کوائن کے لیے 83,000 ڈالر کا لیول بہت اہم ہے۔ ایف ایکس پرو کا کہنا ہے کہ اگر یہ لیول ٹوٹ جائے تو قیمت تیزی سے 80,000 ڈالر کی طرف جا سکتی ہے ۔

بٹ کوائن نے ستمبر کے آخر سے تین بار 87,000 ڈالر کے قریب مزاحمت کا سامنا کیا ہے۔ یہ سطح اس کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن گئی ہے ۔

آگے کیا ہوگا؟


سرمایہ کار اب فیڈرل ریزرو کی FOMC میٹنگ کے منٹس کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ آج جاری ہوں گے ۔

مارکیٹ یہ دیکھے گی کہ آیا فیڈ حکام مزید شرح سود میں اضافے کے حق میں ہیں یا نہیں۔ اگر منٹس سخت رویہ ظاہر کرتے ہیں تو ییلڈز اور ڈالر مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس سے بٹ کوائن پر دباؤ بڑھ سکتا ہے ۔

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر 83,000 ڈالر کا لیول برقرار رہے تو بٹ کوائن 85,500 ڈالر کی طرف بحال ہو سکتا ہے ۔

بٹ کوائن کی قیمت میں کمی - 84 ہزار ڈالر سے نیچے
بٹ کوائن 84 ہزار ڈالر سے نیچے آ گیا، 487 ملین ڈالر کی لیکویڈیشن

نتیجہ


بٹ کوائن 84 ہزار ڈالر سے نیچے آ گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ایران کے حملوں کے بعد تیل کی قیمت میں اضافہ اور ڈالر کی مضبوطی ہے۔ آلٹ کوائنز میں اس سے بھی زیادہ کمی آئی۔

487 ملین ڈالر سے زیادہ کی لانگ پوزیشنز لیکویڈیٹ ہوئیں۔ تکنیکی طور پر 83,000 ڈالر کا لیول بہت اہم ہے۔ اگر یہ ٹوٹا تو قیمت 80,000 ڈالر کی طرف جا سکتی ہے ۔

By Addu Writes

اڈو رائٹس پر جانیے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، بزنس ٹرینڈز، ٹیکنالوجی اور آن لائن سکلز سے متعلق مستند اور معیاری مضامین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے