پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا مستقبل
پاکستان کے لیے AI forecasting کے 3 سبق

 ایک نئی دنیا کا آغاز


تصور کریں کہ آپ کسی ایسے شخص سے پوچھیں جو نہ صرف یہ بتائے کہ کل اسٹاک مارکیٹ اوپر جائے گی یا نیچے، بلکہ یہ بھی کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کا کیا اثر تیل کی قیمتوں پر پڑے گا، اور یہ کہ شکیرا کا نیا گانا بل بورڈ پر کون سا نمبر حاصل کرے گا۔ اب یہ سب ممکن ہو رہا ہے — اور یہ انسان نہیں، مصنوعی ذہانت (AI) کر رہی ہے۔

دنیا بھر میں کئی اسٹارٹ اپ کمپنیاں اس بات پر داؤ لگا رہی ہیں کہ وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسی پیش گوئیاں کر سکتی ہیں جو دنیا کے بہترین ماہرین بھی نہیں کر سکتے۔ یہ پیش گوئیاں صرف اسٹاک مارکیٹ تک محدود نہیں، بلکہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے، موسمیاتی تبدیلیوں، یہاں تک کہ موسیقی کی دنیا تک پھیلی ہوئی ہیں۔

مصنوعی ذہانت کی پیش گوئی: کتنی مؤثر؟


امریکی کمپنی FutureSearch کے شریک بانی ڈین شوارز کا کہنا ہے کہ "2030 تک ہمیں محسوس ہوگا کہ فیصلہ سازی کے لیے جو طریقے ہم ابھی استعمال کر رہے ہیں، وہ پتھر کے زمانے کی سوچ تھی۔”

یہ بات مبالغہ نہیں۔ آج کے AI ماڈلز پہلے ہی دنیا کے بہترین "سپر فورکاسٹرز” کے برابر آ چکے ہیں۔ سپر فورکاسٹرز وہ غیر معمولی افراد ہوتے ہیں جن کی پیش گوئیاں عام لوگوں سے کہیں زیادہ درست ہوتی ہیں۔ لیکن اب مشینیں ان سے آگے نکل رہی ہیں۔

ستمبر کے اوائل میں دو AI ماڈلز نے تاریخ رقم کی جب انہوں نے Metaculus Cup میں سرفہرست مقامات حاصل کیے — یہ مقابلہ انسانی اور غیر انسانی پیش گوئی کرنے والوں کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ پہلا موقع تھا جب مشینوں نے انسانوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

کروڑوں روپے کا تجربہ


اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ Preseen کے شریک بانی تھیو سمر نے AI ٹولز کی مدد سے صرف 35 ڈالر کو سات ماہ میں 19 لاکھ ڈالر میں تبدیل کر دیا۔ یہ تجربہ امریکی پیش گوئی کی ویب سائٹ Kalshi پر کیا گیا۔

لیکن یہ صرف پیسے کمانے کا کھیل نہیں۔ اصل مقصد کسی نتیجے کی ضمانت دینا نہیں، بلکہ اس کے ہونے کا امکان متعین کرنا ہے — اور ساتھ ہی کئی جڑے ہوئے واقعات کے مفروضوں کو آپس میں ملا کر جانچنا۔ مثلاً تیل کی قیمت میں تبدیلی اور مشرق وسطیٰ کی جنگ — یہ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عوامل ہیں، اور AI انہیں ایک ساتھ دیکھ کر بہتر اندازہ لگا سکتی ہے۔

Preseen کے شریک بانی وینیامین ویسیلوفسکی کہتے ہیں: "اس وقت سب سے تیز خریدار ہیج فنڈز ہوتے ہیں، کیونکہ اگر انہیں لگتا ہے کہ وہ کسی چیز سے پیسہ کما سکتے ہیں، تو وہ بہت تیزی سے حرکت کر سکتے ہیں۔”

وال اسٹریٹ پر اثرات


الگورتھم نے وال اسٹریٹ کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے شکل دی ہے، لیکن AI پیش گوئی کے عروج سے مالیاتی منڈیوں کی خودکاریت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

Mantic نامی ایک اور پیش گوئی کرنے والی اسٹارٹ اپ کے شریک بانی ٹوبی شیولین کہتے ہیں: "میرے خیال میں اس کا اثر پہلے ہی پڑ رہا ہے کیونکہ ہمارے کچھ گاہک ٹریڈنگ کے فیصلے کرتے وقت اسے استعمال کرتے ہیں۔”

اب مشہور پیش گوئی کی منڈیاں Kalshi اور Polymarket، جنہیں لاکھوں امریکی استعمال کرتے ہیں، AI کے استعمال سے بھر رہی ہیں۔

لیکن یہاں ایک خطرہ بھی ہے۔ ویسیلوفسکی کے مطابق، عام سرمایہ کاروں کے لیے — جن کے پاس مہنگے AI ٹولز تک رسائی نہیں — ان صارف دوست ٹریڈنگ سائٹس پر منافع کمانا جلد ہی مشکل ہو جائے گا کیونکہ "ان پر جلد ہی AI پیش گوئی کے نظام کا قبضہ ہو جائے گا۔”

AI سے آن لائن کمائی اور ٹریڈنگ
ایک شخص نے 35 ڈالر سے 19 لاکھ ڈالر کمائے

صرف پیش گوئی نہیں: خطرے کا انتظام


سب سے جدید ماڈلز صرف واقعات کی پیش گوئی نہیں کرتے۔ وہ خود مستقبل کے بارے میں سوالات بنا سکتے ہیں اور پھر مختلف ممکنہ نتائج کی بنیاد پر امکانات تفویض کر سکتے ہیں۔

ان کا دائرہ اثر اب صرف مالیات تک محدود نہیں رہا۔ یہ حکومتی پالیسی، کارپوریٹ فیصلہ سازی، سائنسی تحقیق، اور انشورنس کے خطرے کی تشخیص میں بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

Mantic ایک بڑی امریکی کمپنی کو اس کے شعبے میں ممکنہ ریگولیٹری پیش رفت کے منظرنامے فراہم کرتا ہے اور برطانوی حکومت کے لیے بھی کام کر چکا ہے۔

شیولین کہتے ہیں: "کمپنیاں خطرات اور ان کی نگرانی میں دلچسپی رکھتی ہیں۔”

اسی طرح، کچھ گاہک طبی تحقیق میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں — خاص طور پر یہ فیصلہ کرنے میں مدد کے لیے کہ کس قسم کے علاج کو فنڈ دینا بہتر ہوگا۔

ایک خوفناک پہلو


لیکن ان ٹولز تک وسیع رسائی کے ساتھ قیمت بھی آتی ہے۔

ویسیلوفسکی کہتے ہیں: "میرے خیال میں اس سے بھلائی حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن میں تھوڑا سا خوفزدہ بھی ہوں کیونکہ، آپ جانتے ہیں، شاید روس یا چین کے پاس بہتر نظام موجود ہو۔”

یہ خدشہ صرف ایک شخص کا نہیں۔ جب پیش گوئی کی طاقت چند ہاتھوں میں چلی جائے، تو یہ طاقت کا عدم توازن پیدا کر سکتی ہے۔ جو قومیں یا کمپنیاں بہتر AI ماڈلز رکھتی ہیں، وہ دوسروں سے آگے نکل سکتی ہیں — چاہے وہ مالیاتی منڈیاں ہوں، انتخابات، یا جنگ کے فیصلے۔

پاکستان کے لیے سبق


پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ پیش رفت اہم سبق رکھتی ہے۔

پہلا سبق: ڈیٹا کی اہمیت۔ AI ماڈلز کو درست پیش گوئی کے لیے وسیع ڈیٹا چاہیے۔ پاکستان کو اپنا ڈیٹا اکٹھا کرنے اور محفوظ رکھنے کے نظام بنانے ہوں گے۔

دوسرا سبق: ہنر کی تربیت۔ AI forecasting کے لیے نہ صرف پروگرامرز چاہیے بلکہ ماہرین بھی جو ڈیٹا کو سمجھ سکیں۔

تیسرا سبق: خودمختاری۔ اگر پیش گوئی کی طاقت غیر ملکی کمپنیوں کے پاس ہوگی، تو فیصلے بھی وہیں ہوں گے۔ پاکستان کو اپنے AI ماڈلز بنانے کی ضرورت ہے۔

مصنوعی ذہانت اور مستقبل کی پیش گوئی
مشین اب انسان سے بہتر پیش گوئی کر رہی ہے

نتیجہ: مشین کا اندازہ، انسان کا فیصلہ


مصنوعی ذہانت کی پیش گوئی کوئی جادو نہیں۔ یہ ایک نیا طریقہ ہے جس میں مشین لاکھوں معلومات کو ایک ساتھ دیکھتی ہے اور بتاتی ہے کہ کون سا واقعہ کتنے امکان کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ انسان کے پاس تجربہ ہوتا ہے، فطری سمجھ ہوتی ہے، لیکن معلومات محدود ہوتی ہیں۔ مشین کے پاس معلومات بہت ہیں، لیکن سمجھ نہیں۔

یہیں سے ایک بڑا سوال شروع ہوتا ہے۔ اگر یہ طاقت صرف ان لوگوں کے پاس رہی جو مہنگے ٹولز خرید سکتے ہیں، تو عام آدمی ہمیشہ پیچھے رہے گا۔ اور اگر یہ ٹولز غلط ہاتھوں میں چلے گئے، تو نقصان بھی بہت ہو سکتا ہے۔

اصل بات یہ نہیں کہ مشین کتنا بتا سکتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان اسے کس کام کے لیے استعمال کرتا ہے۔

By Addu Writes

اڈو رائٹس پر جانیے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، بزنس ٹرینڈز، ٹیکنالوجی اور آن لائن سکلز سے متعلق مستند اور معیاری مضامین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے