پاکستان میں آن لائن خریداری اب صرف ایک رجحان نہیں رہی۔ یہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ 255 ملین آبادی میں سے تقریباً 90 ملین افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ ہر پانچ میں سے دو پاکستانی مہینے میں کم از کم ایک بار آن لائن خریداری کرتے ہیں۔ 91 فیصد آرڈرز موبائل فون سے دیے جاتے ہیں ۔
لیکن ایک اہم سوال یہ ہے: کیا دراز ہی واحد آپشن ہے؟ جواب نہیں ہے۔ پاکستان کا ای کامرس منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ نئے کھلاڑی آ رہے ہیں اور صارفین کے پاس زیادہ انتخاب ہے۔
آن لائن کاروبار پاکستان: اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی ای کامرس مارکیٹ 2025 میں 10.42 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ 2024 کے 7.7 بلین ڈالر سے بہت زیادہ ہے۔ 2027 تک اس کے 12 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ سالانہ ترقی کی شرح 17 فیصد ہے ۔
الیکٹرانکس سب سے بڑا حصہ ہے۔ یہ کل ای کامرس آمدنی کا 24 فیصد ہے۔ اس کے بعد فیشن، بیوٹی پروڈکٹس اور لگژری آئٹمز آتے ہیں۔ آن لائن فلائٹ بکنگ سالانہ 2.3 بلین ڈالر کماتی ہے ۔
دراز: مارکیٹ لیڈر لیکن چیلنجز بھی
دراز پاکستان کا سب سے بڑا ای کامرس پلیٹ فارم ہے۔ ستمبر 2026 میں بھی یہ سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ای کامرس ویب سائٹ ہے ۔ ایپل نے بھی اپنا آفیشل فلیگ شپ اسٹور دراز پر کھولا ہے۔ صارفین اب اصل ایپل پروڈکٹس دراز سے خرید سکتے ہیں ۔
لیکن دراز کو کچھ مسائل کا سامنا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، صارفین دراز پر لائف اسٹائل اور ہوم پروڈکٹس کے معیار اور اصلیت کے بارے میں شکوک رکھتے ہیں۔ ان کے لیے قیمت سے زیادہ معیار، اصلیت اور اعتماد اہم ہے ۔
دراز کے حریفوں کا ظہور: ٹیمو، شین اور علی ایکسپریس
دراز کے علاوہ کئی بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان میں سرگرم ہیں۔ ٹیمو، شین اور علی ایکسپریس نے صارفین کی توقعات بدل دی ہیں۔ وہ جدید پروڈکٹ ڈیزائن، تنوع اور بہتر شاپنگ تجربہ پیش کر رہے ہیں ۔
ٹیمو کی کامیابی کی بڑی وجہ اس کا کوالٹی کنٹرول ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ٹیمو سے منگوائے گئے زیادہ تر پروڈکٹس تفصیل کے مطابق ہوتے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں دراز پر کوالٹی چیک کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے۔
سوشل کامرس: نیا رجحان
پاکستان میں ایک نیا رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے: سوشل کامرس۔ چھوٹے اور درمیانے کاروبار اب فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور واٹس ایپ کو اپنی دکان بنا رہے ہیں۔
کئی بڑے فیشن برانڈز جیسے کیشریا، سفائر اور گل احمد نے سوشل میڈیا پر اپنی ریٹیل آپریشنز بنائی ہیں۔ کراچی کے گل پلازہ مارکیٹ کے دکاندار بھی فیس بک اور انسٹاگرام سے سامان بیچ رہے ہیں ۔
میٹا نے اگست 2026 میں پاکستان میں سمال بزنس گروتھ اکیڈمی شروع کی۔ سمیڈا نے علی بابا کے ساتھ شراکت داری کی تاکہ چھوٹے کاروبار ڈیجیٹل ہو سکیں ۔
کون سی دوسری پلیٹ فارمز ہیں؟
دراز کے علاوہ کچھ اور پلیٹ فارمز بھی اہم ہیں:
پرائس اوئے: یہ الیکٹرانکس اور موبائل فونز پر مرکوز ہے۔ یہ قیمتوں کا موازنہ بھی فراہم کرتا ہے۔ اصل برانڈڈ پروڈکٹس بیچنے والوں کے لیے یہ اچھا پلیٹ فارم ہے ۔
ٹیلی مارٹ: یہ پہلے الیکٹرانکس کی دکان تھی، اب جنرل مارکیٹ پلیس بن گئی ہے۔ یہ اپنا اسٹاک بھی بیچتی ہے اور تھرڈ پارٹی سیلرز کو بھی جگہ دیتی ہے ۔
نہید: یہ کراچی کی ریٹیل چین تھی، اب آن لائن بھی ہے۔ گروسری اور گھریلو سامان کے لیے مشہور ہے ۔
کیا دراز منافع کما رہی ہے؟
جولائی 2026 میں دراز نے گروپ لیول پر منافع حاصل کر لیا ہے ۔ یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی ای کامرس کمپنیاں صرف "سبسڈی پر ترقی” کے ماڈل سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
لیکن اب بھی چیلنجز موجود ہیں۔ پاکستان میں آن لائن کامرس کل ریٹیل کا صرف 2 سے 3 فیصد ہے ۔ یعنی 97 فیصد خریداری اب بھی آف لائن ہوتی ہے۔ یہ بہت بڑا موقع ہے لیکن اس کے لیے صارفین کا اعتماد جیتنا ضروری ہے۔
2029 تک کیا ہوگا؟
ایک رپورٹ کے مطابق، 2029 تک پاکستان میں ای کامرس صارفین کی تعداد 14 ملین تک پہنچنے کی توقع ہے۔ انٹرنیٹ کی رسائی 92.2 فیصد تک بڑھ سکتی ہے ۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق 2025 میں ملک میں 150 ملین انٹرنیٹ صارفین تھے ۔ نوجوان آبادی اور ہر سال لیبر فورس میں شامل ہونے والے 20 لاکھ افراد ڈیجیٹل سروسز کے لیے مضبوط بنیاد ہیں ۔

نتیجہ
پاکستان کا ای کامرس "دراز سے آگے” بڑھ رہا ہے۔ سوشل کامرس، نئے مارکیٹ پلیسز اور بہتر لاجسٹکس اس شعبے کو بدل رہے ہیں۔
دراز اب بھی سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے۔ لیکن صارفین کے پاس اب ٹیمو، شین، علی ایکسپریس، پرائس اوئے اور سوشل میڈیا جیسے بہت سے آپشنز ہیں۔ اصل مقابلہ کوالٹی، اعتماد اور تجربے کا ہے۔ جو پلیٹ فارم ان تین چیزوں پر توجہ دے گا، وہ آگے رہے گا۔

