کیا آپ نے بھی یہ پیغام دیکھا ہے کہ "این سی سی آئی اے ہر شہری کا موبائل چیک کر رہی ہے” یا "گھبرائیں، آپ کی گیلری میں موجود تصاویر آپ کو جیل پہنچا سکتی ہیں”؟ پاکستان میں این سی سی آئی اے اور موبائل گیلری کے حوالے سے سوشل میڈیا پر خوف کی ایک بڑی افواہ گردش کر رہی ہے۔
یہ مضمون آپ کو بتائے گا کہ اس افواہ میں کتنی حقیقت ہے، این سی سی آئی اے کے اصل اختیارات کیا ہیں، اور آپ کو کب واقعی پریشان ہونا چاہیے۔
افواہ کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے پیغامات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ این سی سی آئی اے ہر شہری کے موبائل فون کی گیلری، تصاویر اور چیٹس کی خودکار جانچ کر رہی ہے۔ کچھ پیغامات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے نازیبا تصاویر کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔
یہ پیغامات ڈراؤنے اور گمراہ کن ہیں۔ حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔
حقیقت کیا ہے؟
پہلی حقیقت: این سی سی آئی اے کے پاس ہر شہری کے موبائل کو خودکار طریقے سے اسکین کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔
دوسری حقیقت: این سی سی آئی اے کوئی بھی کارروائی صرف شکایت یا مخصوص معلومات کی بنیاد پر کرتی ہے۔ یہ ادارہ خود سے کسی کے فون کی گیلری نہیں کھولتا۔
تیسری حقیقت: موبائل فون کی تلاشی کے لیے عدالتی اجازت ضروری ہے۔ لاہور کی سیشن عدالت نے جنوری 2026 میں ایک تاریخی فیصلہ دیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس یا کوئی بھی قانون نافذ کرنے والا ادارہ کسی شہری کا موبائل فون، اس کا ڈیٹا، پیغامات یا تصاویر عدالت کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چیک نہیں کر سکتا ۔
این سی سی آئی اے کے اصل اختیارات کیا ہیں؟
این سی سی آئی اے ایک وفاقی ادارہ ہے جو سائبر جرائم کی تحقیقات کرتا ہے۔ اس کے اختیارات قانون کے دائرے میں محدود ہیں۔
جب این سی سی آئی اے کارروائی کرتی ہے:
این سی سی آئی اے صرف اس وقت کارروائی کرتی ہے جب کوئی شکایت درج ہو یا کسی مخصوص جرم کی معلومات ملے۔ مثال کے طور پر اکتوبر 2026 میں این سی سی آئی اے نے لاہور میں ایک غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مارا۔ ملزمان جعلی قرض ایپس کے ذریعے لوگوں کی گیلری تک رسائی حاصل کرتے تھے اور پھر اے آئی سے نازیبا تصاویر بنا کر بلیک میل کرتے تھے ۔
اس کارروائی میں 39 ملزمان گرفتار کیے گئے۔ ان کے قبضے سے 40 لیپ ٹاپ اور 41 موبائل فون برآمد ہوئے ۔
اہم نکتہ: یہ کارروائی مخصوص شکایات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ این سی سی آئی اے نے ہر شہری کا فون چیک نہیں کیا۔
این سی سی آئی اے اور اے آئی تصاویر اسکیننگ: کیا یہ سچ ہے؟
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ این سی سی آئی اے مصنوعی ذہانت سے ہر موبائل کی تصاویر اسکین کر رہی ہے۔
یہ دعویٰ گمراہ کن ہے۔
این سی سی آئی اے کے پاس کوئی ایسا خودکار نظام نہیں ہے جو ہر شہری کے فون کی گیلری تک رسائی حاصل کرے۔ تاہم، جب کسی مخصوص کیس کی تحقیقات ہو رہی ہوں تو این سی سی آئی اے فرانزک تجزیہ کے لیے ڈیوائسز ضبط کر سکتی ہے۔
مثال کے طور پر کراچی میں ایک منشیات فروش کے موبائل سے 100 جی بی ڈیٹا ریکور کیا گیا جس میں 75 ہزار تصاویر، 13 ہزار کانٹیکٹس اور 42 ہزار کال لاگز شامل تھے ۔ لیکن یہ ایک مخصوص مجرم کا فون تھا، ہر شہری کا نہیں۔

ایک حقیقی کہانی: لاہور میں جعلی لون ایپ گینگ کی گرفتاری
اکتوبر 2026 کے اوائل میں این سی سی آئی اے لاہور نے ایک بڑی کارروائی کی۔ یہ کارروائی لاہور کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی، جی سی پی سوسائٹی میں کی گئی ۔
این سی سی آئی اے نے "ٹاک ماسٹر پرائیویٹ لمیٹڈ” کے نام سے چلنے والے کال سینٹر پر چھاپہ مارا۔ اس کارروائی میں 38 مرد اور ایک خاتون سمیت کل 39 افراد کو حراست میں لیا گیا ۔
تحقیقات کے مطابق یہ گروہ کئی جعلی لون ایپس چلا رہا تھا۔ ان میں "غربا فنڈ”، "جہیز فنڈ”، "کیش ایئر”، "کریڈی چیک” اور "کریڈٹ سپورٹ” شامل تھیں ۔
سب سے افسوسناک بات: جب قرض لینے والے لوگ رقم واپس کرنے میں تاخیر کرتے تو یہ گروہ ان کے موبائل فون سے رابطے اور تصاویر چوری کر لیتا تھا۔ پھر وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ان کی تصاویر کو جعلی فحش تصاویر میں تبدیل کر دیتے تھے ۔
اس کے بعد وہ متاثرین کو دھمکی دیتے تھے کہ اگر انہوں نے رقم واپس نہ کی تو یہ تصاویر ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو بھیج دی جائیں گی ۔
این سی سی آئی اے نے اس کارروائی میں 40 لیپ ٹاپ اور 41 موبائل فون قبضے میں لیے۔ ان آلات کو فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ۔
یہ کہانی کیا سکھاتی ہے؟
یہ کہانی ثابت کرتی ہے کہ این سی سی آئی اے مخصوص شکایات اور مخصوص جرائم کی بنیاد پر کارروائی کرتی ہے۔ اس نے ہر شہری کا فون چیک نہیں کیا۔ اس نے صرف اس گروہ کو پکڑا جو لوگوں کو بلیک میل کر رہا تھا۔
اگر آپ کسی جرم میں ملوث نہیں ہیں تو آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ این سی سی آئی اے کا نشانہ صرف مجرم ہوتے ہیں۔
خوف کی افواہ کیوں پھیل رہی ہے؟
اس افواہ کے پھیلنے کی کئی وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ: لوگ این سی سی آئی اے کے اختیارات کو نہیں سمجھتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ادارہ ہر جگہ موجود ہے اور ہر فون چیک کر سکتا ہے۔
دوسری وجہ: سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ "این سی سی آئی اے آپ کا ڈیٹا چیک کر رہی ہے”۔ یہ ویڈیوز گمراہ کن ہیں ۔
تیسری وجہ: کچھ لوگ واقعی غیر قانونی مواد رکھتے ہیں اور ڈرتے ہیں۔ لیکن قانون صرف مجرموں کے خلاف ہے، عام شہریوں کے خلاف نہیں۔
آپ کی ڈیجیٹل حفاظت کے لیے نکات
پہلا نکتہ: اپنے فون پر مضبوط پاس کوڈ لگائیں۔
دوسرا نکتہ: کسی کو اپنا فون بغیر نگرانی کے نہ دیں۔
تیسرا نکتہ: مشکوک ایپس کی اجازتیں چیک کریں۔ خاص طور پر وہ ایپس جو گیلری اور کانٹیکٹس تک رسائی مانگیں۔
چوتھا نکتہ: اگر کوئی آپ کو بلیک میل کر رہا ہے تو فوراً این سی سی آئی اے سے رابطہ کریں۔

نتیجہ
این سی سی آئی اے اور موبائل گیلری کے حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہیں زیادہ تر غلط ہیں۔ این سی سی آئی اے ہر شہری کا فون چیک نہیں کرتی۔ یہ ادارہ صرف شکایات اور مخصوص جرائم کی تحقیقات کرتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ بغیر اجازت موبائل چیک کرنا غیر قانونی ہے ۔ لہٰذا اگر آپ نے کوئی جرم نہیں کیا تو آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔
یاد رکھیں، سوشل میڈیا پر ہر وائرل پیغام سچ نہیں ہوتا۔ معلومات کی تصدیق کریں اور خوف میں آ کر کوئی قدم نہ اٹھائیں۔
قارئین کے سوالات، ہمارے جوابات
سوال: کیا این سی سی آئی اے ہر شہری کا موبائل چیک کرتی ہے؟
جواب: نہیں۔ این سی سی آئی اے صرف شکایات یا مخصوص جرائم کی تحقیقات کرتی ہے۔ ہر شہری کا فون چیک کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں۔
سوال: کیا موبائل چیک کرنے کے لیے عدالتی اجازت ضروری ہے؟
جواب: جی ہاں۔ لاہور کی سیشن عدالت نے واضح کیا ہے کہ بغیر عدالتی اجازت موبائل فون کی تلاشی غیر قانونی ہے ۔
سوال: کیا این سی سی آئی اے اے آئی سے تصاویر اسکین کرتی ہے؟
جواب: نہیں۔ این سی سی آئی اے کے پاس خودکار اسکیننگ کا کوئی نظام نہیں۔ فرانزک تجزیہ صرف مخصوص کیسز میں کیا جاتا ہے۔

