پاکستان میں غذائی قلت کا شکار بچہ اور اس کی ماں
پاکستان میں 33.6 فیصد بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں


پاکستان عالمی بھوک بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 ممالک میں شامل ہے۔ یہ انکشاف بین الاقوامی انسانی تنظیم ایکشن اگینسٹ ہنگر کی نئی رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2026 میں پاکستان میں 1 کروڑ 6 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہوگی ۔

یہ رپورٹ عالمی خوراک کے دن کے موقع پر جاری کی گئی۔ اس میں بتایا گیا کہ موسمیاتی آفات، معاشی مشکلات، بے گھر ہونے اور انسانی امداد میں کمی نے کمزور طبقات کو مزید غذائی عدم تحفظ میں دھکیل دیا ہے ۔

عالمی بھوک بحران کے اعداد و شمار

اشاریہتفصیل
10 ممالک میں بھوک سے متاثر افرادتقریباً 17 کروڑ 70 لاکھ
عالمی سطح پر شدید بھوک26 کروڑ 60 لاکھ افراد، 47 ممالک میں
گزشتہ دہائی میں شدید بھوکدوگنی ہو گئی

سب سے زیادہ غذائی بحران کا سامنا کرنے والے ممالک یہ ہیں: نائجیریا، کانگو، سوڈان، یمن، افغانستان، میانمار، بنگلہ دیش، پاکستان، جنوبی سوڈان اور شام ۔

پاکستان میں صورتحال کیوں بگڑی؟


رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غذائی عدم تحفظ کی کئی وجوہات ہیں۔

معاشی مشکلات: مسلسل غربت، خوراک کی بلند افراط زر، بڑھتی زندگی کی لاگت، محدود روزگار کے مواقع اور گھریلو آمدنی میں کمی نے خاندانوں کی قوت خرید کو کمزور کر دیا ہے۔ ناموافق زرعی قیمتیں اور معاشی عدم استحکام نے معاش کو مزید متاثر کیا ۔

موسمیاتی آفات: پاکستان موسمیاتی آفات کا شکار رہتا ہے۔ بار بار آنے والے سیلاب، خشک سالی، گرمی کی لہریں، گلیشیئر جھیل کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب اور مون سون کی غیر متوقع بارشیں انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس سے زرعی پیداوار کم ہوتی ہے اور مویشیوں پر منحصر معاش کمزور ہوتا ہے ۔

علاقائی عدم استحکام: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مقامی عدم استحکام معاش کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ مارکیٹ تک رسائی کو محدود کرتا ہے اور انسانی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالتا ہے ۔

بحران سے نمٹنے کے لیے لوگ کیا کر رہے ہیں؟


رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ انسانی ضروریات دستیاب وسائل سے بڑھ رہی ہیں۔ اس لیے کمزور گھرانے نقصان دہ طریقے اپنا رہے ہیں۔

خوراک کم کرنا: لوگ کھانے کی مقدار کم کر رہے ہیں۔

پیداواری اثاثے بیچنا: گھرانے اپنے اثاثے بیچ کر پیسے حاصل کر رہے ہیں۔

بچوں کو سکول سے نکالنا: مالی دباؤ کی وجہ سے بچوں کی تعلیم چھڑوائی جا رہی ہے ۔

رپورٹ نے خبردار کیا کہ یہ طریقے وقتی ریلیف تو دیتے ہیں، لیکن طویل مدت میں غربت کو گہرا کرتے ہیں۔ بچوں کی تعلیم اور غذائیت متاثر ہوتی ہے اور خاندانوں کی مستقبل کے بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے ۔

صحت اور بنیادی سہولیات تک رسائی کی کمی


رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال، غذائی خدمات، صاف پانی، صفائی اور سماجی تحفظ تک محدود رسائی بحران کو مزید بڑھا رہی ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر دیہی اور آفت سے متاثرہ علاقوں میں زیادہ سنگین ہے ۔

مسلسل غربت اور شدید غذائی قلت انسانی ضروریات کے بڑے محرک ہیں۔ جبکہ معاون خدمات اور معاش کے پروگراموں میں کمی کمیونٹی کی لچک کو مزید کمزور کر رہی ہے ۔

عالمی غذائی بحران کی عالمی وجوہات


رپورٹ نے عالمی سطح پر بھی کچھ عوامل بتائے ہیں۔

تنازعات: دنیا بھر میں تنازعات بھوک کی بڑی وجہ ہیں۔ یہ غذائی نظام کو تباہ کرتے ہیں اور امداد کی ترسیل کو مشکل بناتے ہیں ۔

موسمیاتی تبدیلی: موسمیاتی تبدیلی زرعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے۔ خشک سالی اور سیلاب فصلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔

معاشی بحران: عالمی معاشی عدم استحکام اور افراط زر خوراک کی قیمتوں کو بڑھا رہے ہیں ۔

پاکستان کی غذائی صورتحال: مزید اعداد و شمار

پاکستان کے غذائی بحران کی تصویر صرف اس رپورٹ سے واضح نہیں ہوتی۔


عالمی بھوک انڈیکس 2026:
پاکستان نے جنوبی ایشیا میں سب سے خراب اسکور حاصل کیا۔ اس کا اسکور 25.5 ہے جو "سنگین” سطح کی بھوک کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان 122 ممالک میں 106 ویں نمبر پر ہے ۔

غذائی قلت: پاکستان میں 16.1 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔ 33.6 فیصد بچے پانچ سال سے کم عمر کے ہیں جو سٹنٹنگ کا شکار ہیں ۔

شدید غذائی عدم تحفظ: فروری 2026 کی رپورٹ کے مطابق 75 لاکھ پاکستانی شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے تھے ۔

پاکستان میں خشک سالی سے متاثر کسان اپنی سوکھی فصل دیکھ رہا ہے
موسمیاتی آفات نے پاکستان میں زرعی پیداوار کو شدید متاثر کیا ہے

نتیجہ


پاکستان عالمی بھوک بحران سے متاثر 10 ممالک میں شامل ہے۔ 2026 میں 1 کروڑ 6 لاکھ پاکستانیوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہوگی۔

معاشی مشکلات، موسمیاتی آفات اور علاقائی عدم استحکام اس بحران کی بڑی وجوہات ہیں۔ لوگ خوراک کم کر رہے ہیں، اثاثے بیچ رہے ہیں اور بچوں کو سکول سے نکال رہے ہیں۔

رپورٹ نے خبردار کیا کہ یہ صورتحال طویل مدت میں غربت اور غذائی قلت کو مزید گہرا کرے گی۔ پاکستان کو فوری انسانی امداد اور طویل مدتی غذائی تحفظ کی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

By Addu Writes

اڈو رائٹس پر جانیے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، بزنس ٹرینڈز، ٹیکنالوجی اور آن لائن سکلز سے متعلق مستند اور معیاری مضامین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے