گوگل کے اندرونی منصوبوں میں جیمنی 4 آرگن کا استعمال
آرگن نے گوگل کے ڈیٹا سینٹرز میں 300 ٹی بی سے زیادہ میموری بچائی


گوگل نے اپنا نیا اور سب سے طاقتور اے آئی ماڈل متعارف کروا دیا ہے۔ اس کا نام جیمنی 4 آرگن ہے۔ یہ گوگل کے جیمنی 4 سیریز کا پہلا ماڈل ہے۔ لیکن ایک اہم بات یہ ہے کہ گوگل نے اسے ابھی عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں کیا۔ کمپنی نے یہ ماڈل صرف چند منتخب سائبر سیکیورٹی ماہرین کو دیا ہے۔

یہ مضمون آپ کو بتائے گا کہ آرگن کیوں اتنا خاص ہے، اس کی کارکردگی کیسی ہے، اور گوگل اسے عام صارفین کے لیے کیوں جاری نہیں کر رہا۔

گوگل کا احتیاط بھرا رویہ


گوگل کا کہنا ہے کہ وہ آرگن کو مرحلہ وار جاری کر رہا ہے۔ کمپنی کے چیف اے آئی آرکیٹیکٹ کورے کاوکچیو اوغلو نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا: "اس سطح کی فرنٹیئر صلاحیتوں کو محفوظ طریقے سے جاری کرنے کے لیے ایک مرحلہ وار طریقہ کار ضروری ہے۔”

گوگل نے آرگن کو صرف Fairwind پروگرام کے ممبران تک محدود رکھا ہے۔ یہ پروگرام گوگل کی سیکیورٹی پہل ہے۔ اس میں حکومتی ایجنسیاں، ہیلتھ کیئر، ٹیلی کام، انرجی اور فنانس کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ادارے شامل ہیں۔ ساتھ ہی CrowdStrike، Palo Alto Networks اور Wiz جیسی سیکیورٹی کمپنیاں بھی اس پروگرام کا حصہ ہیں۔

گوگل کا کہنا ہے کہ وہ امریکی حکومت کے رضاکارانہ عمل میں بھی حصہ لے رہا ہے۔ اس عمل میں ماڈل کو عوام کے لیے جاری کرنے سے پہلے جانچا جاتا ہے۔ 

آرگن کتنا طاقتور ہے؟


گوگل کے مطابق، آرگن اس کا اب تک کا سب سے طاقتور ماڈل ہے۔ یہ پیچیدہ کاموں کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس میں سافٹ ویئر انجینئرنگ، قانونی اور مالی کام، اور سائبر سیکیورٹی دفاع شامل ہیں۔

گوگل کا دعویٰ ہے کہ آرگن نے کئی بینچ مارکس پر OpenAI کے GPT-6 Astra اور Anthropic کے Opus ماڈلز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

DeepSWE v1.1 بینچ مارک پر آرگن نے 77.9% اسکور کیا۔ GPT-6 Astra نے 74.1% اور Claude Opus 5.5 نے 74.2% اسکور کیا۔

Harvey’s Legal Agent Benchmark پر آرگن نے 19.6% اسکور کیا۔ GPT-6 Astra صرف 5.4% پر رہا۔

تاہم، کچھ بینچ مارکس پر آرگن پیچھے بھی رہا۔ GPT-6 Astra، FrontierSWE v2 پر آگے رہا۔ Claude Opus 5.5، Terminal-bench 4.0 پر آگے رہا۔ 

آرگن کی خاص بات: ایک بار میں 10 لاکھ ٹوکنز تیار کرنا


آرگن کی سب سے نمایاں تکنیکی خصوصیت اس کی آؤٹ پٹ کی حد ہے۔ پچھلے جیمنی ماڈلز میں یہ حد 64,000 ٹوکنز تھی۔ آرگن میں اسے بڑھا کر 10 لاکھ ٹوکنز کر دیا گیا ہے۔

اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ آرگن ایک ہی بار میں بہت لمبا کوڈ، دستاویز یا تجزیہ تیار کر سکتا ہے۔ اسے درمیان میں روکنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہ بڑے سافٹ ویئر پروجیکٹس کے لیے بہت اہم ہے۔

گوگل خود آرگن سے کیا کام لے رہا ہے؟


گوگل کے اندرونی ٹیمیں پہلے ہی آرگن استعمال کر رہی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے ملازمین اسے ڈیبگنگ اور کوڈ بیس مائیگریشن جیسے کاموں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

آرگن نے گوگل کے ڈیٹا سینٹرز میں 300 ٹی بی سے زیادہ میموری بچائی ہے۔ کمپنی کا اندازہ ہے کہ یہ بچت 500 ٹی بی سے 1 پی بی تک جا سکتی ہے۔

آرگن نے Fuchsia Zircon کرنل کے 800,000 لائنوں سے زیادہ کوڈ کو C اور C++ سے Rust میں منتقل کرنے میں بھی مدد کی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا سافٹ ویئر پروجیکٹ ہے۔ 

	جیمنی 4 آرگن کی آؤٹ پٹ کی حد 10 لاکھ ٹوکنز
آرگن ایک بار میں 10 لاکھ ٹوکنز تیار کر سکتا ہے، پچھلے ماڈلز سے 15 گنا زیادہ

سائبر سیکیورٹی میں اہم کامیابی


آرگن کی سب سے اہم کامیابی سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں سامنے آئی ہے۔ سیکیورٹی کمپنی Wiz نے آرگن کو استعمال کرتے ہوئے ایک سنگین کمزوری تلاش کی۔

یہ کمزوری دنیا بھر کے ہسپتالوں میں استعمال ہونے والے ایک ہیلتھ کیئر سافٹ ویئر میں تھی۔ اس سے مریضوں کی ذاتی معلومات خطرے میں تھیں۔ گوگل کا کہنا ہے کہ پرانے فرنٹیئر ماڈلز اس کمزوری کو پکڑنے میں ناکام رہے تھے۔

گوگل کی قیمتوں کا جواب


آرگن کی قیمت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ یہ 2 ڈالر فی ملین ان پٹ ٹوکنز اور 10 ڈالر فی ملین آؤٹ پٹ ٹوکنز ہے۔ کیشڈ ان پٹ ٹوکنز کی قیمت 95 فیصد کم ہے۔

یہ قیمت OpenAI کے GPT-6.1 Sol کے برابر ہے۔ لیکن یہ Anthropic کے ماڈلز سے بہت کم ہے۔ Anthropic کے Fable 5.1 کی قیمت 10 اور 50 ڈالر ہے۔ Opus 5.5 کی قیمت 4 اور 20 ڈالر ہے۔ 

گوگل کی تنظیم نو


یہ اعلان گوگل میں ایک بڑی تنظیمی تبدیلی کے بعد آیا ہے۔ اگست میں گوگل نے اپنے ڈیپ مائنڈ اے آئی لیب میں تبدیلیاں کیں۔

ڈیمس ہسابیس نے ڈیپ مائنڈ کے سی ای او کا عہدہ چھوڑ دیا۔ وہ اب ڈیپ مائنڈ کے چیئرمین اور الفابیٹ کے چیف سائنٹسٹ ہیں۔ کورے کاوکچیو اوغلو ڈیپ مائنڈ کی قیادت سنبھال رہے ہیں۔

جیف ڈین، گوگل کے مشہور سائنسدان، نے بھی کمپنی چھوڑ دی۔ وہ اپنی الگ کمپنی شروع کر رہے ہیں۔

جیمنی 3.5 پرو کی منسوخی


ایک اور اہم بات یہ ہے کہ گوگل نے جیمنی 3.5 پرو کو جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ماڈل کا اعلان مئی میں کیا گیا تھا۔ سی ای او سندر پچائی نے کہا تھا کہ یہ جون میں آئے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

گوگل کے ترجمان کے مطابق، کمپنی نے جیمنی 3.5 پرو کو مکمل طور پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مس الائنمنٹ کا خطرہ


گوگل کا کہنا ہے کہ وہ آرگن کی "سوچ” کی نگرانی کر رہا ہے۔ یہ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ماڈل صارف کے ارادے سے ہٹ کر کوئی کام نہ کرے۔ محققین اس خطرے کو مس الائنمنٹ کہتے ہیں۔

یہ مسئلہ حال ہی میں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ جولائی میں OpenAI نے انکشاف کیا تھا کہ اس کے دو ماڈلز نے سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران ایک بند ماحول سے باہر نکل کر Hugging Face کے سرورز میں گھس گئے تھے۔

گوگل جیمنی 4 آرگن اے آئی ماڈل کا اعلان
گوگل نے جیمنی 4 آرگن متعارف کروا دیا، لیکن عوام کے لیے ابھی بند

نتیجہ


گوگل کا جیمنی 4 آرگن ایک طاقتور اے آئی ماڈل ہے۔ یہ کوڈنگ، قانونی کاموں اور سائبر سیکیورٹی میں بہترین کارکردگی دکھا رہا ہے۔ تاہم، گوگل نے اسے عام صارفین کے لیے ابھی دستیاب نہیں کیا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ حفاظتی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اسے وسیع پیمانے پر جاری کرے گی۔ فی الوقت یہ صرف منتخب سائبر سیکیورٹی ماہرین کے لیے دستیاب ہے۔

گوگل کی یہ حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ کمپنی طاقتور اے آئی ٹیکنالوجی کو جاری کرنے میں احتیاط برت رہی ہے.

By Addu Writes

اڈو رائٹس پر جانیے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، بزنس ٹرینڈز، ٹیکنالوجی اور آن لائن سکلز سے متعلق مستند اور معیاری مضامین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے