پیٹرول ریلیف اسکیم کے تحت پیٹرول پمپ پر گاڑیوں کی قطار 2026
100 روپے فی لیٹر رعایتی نرخوں پر پیٹرول کی فراہمی جاری ہے

اسکیم کا آغاز اور نئی تبدیلیاں


وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو پیٹرول ریلیف اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد یہ اسکیم شروع کی گئی۔ اسکیم کا مقصد غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

اب صرف 48 گھنٹوں کے اندر عوام کی رائے کی روشنی میں اسکیم میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں اسکیم کے پہلے 48 گھنٹوں کے دوران موصول ہونے والی رائے کا جائزہ لیا گیا ۔

کس کو کتنی رعایت ملے گی؟


اب موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی مالکان کو ہفتہ وار 500 روپے کا ایک ٹوکن جاری ہوگا۔ ایک مہینے میں کل 4 ٹوکن ملیں گے ۔ صارفین اس ٹوکن سے کسی بھی مقدار میں پیٹرول لے سکیں گے ۔

800 سی سی تک گاڑی والوں کے لیے پرانا انتظام جاری رہے گا۔ انہیں ہر 10 دن میں 10 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت ملے گی۔ ایک مہینے میں 10 لیٹر کے 3 ٹوکن جاری ہوں گے ۔

5 لیٹر کی شرط کیوں ختم کی گئی؟


پہلے اسکیم میں ایک بار میں کم از کم 5 لیٹر پیٹرول خریدنا لازمی تھا۔ لیکن بہت سے لوگ ایک بار میں اتنی مقدار نہیں خرید سکتے تھے۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں کی گاڑیوں کے ٹینک ہی چھوٹے تھے۔

عوام کی شکایات کے بعد وزیراعظم نے 5 لیٹر کی شرط ختم کرنے کی ہدایت دی۔ اب صارفین 500 روپے کے ٹوکن سے جتنا چاہیں پیٹرول لے سکتے ہیں ۔

نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ 500 روپے کے ٹوکن کی مکمل رقم صارف کو ملے گی۔ پیٹرول پمپ کوئی کٹوتی یا سروس چارج نہیں لگا سکیں گے ۔

اہلیت کی عمر میں اضافہ


وزیراعظم نے ایک اور اہم فیصلہ کیا ہے۔ 20 سال پرانی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی رکشوں کو بھی اسکیم میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔

پہلے یہ عمر کی حد 15 سال تھی، جسے اب بڑھا کر 20 سال کر دیا گیا ۔ یعنی یکم جنوری 2006 کے بعد رجسٹرڈ تمام موٹر سائیکلیں، رکشے اور چنگ چی اب اسکیم کے اہل ہیں ۔

اس فیصلے سے ان لوگوں کو بھی فائدہ پہنچے گا جو پرانی گاڑیاں چلاتے ہیں اور اسکیم سے محروم رہ گئے تھے ۔

رجسٹریشن کا طریقہ کار


اسکیم میں رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔ وزیراعظم نے رجسٹریشن میسج کو مکمل مفت کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

رجسٹریشن کے لیے صرف چار معلومات درکار ہیں۔ یہ ہیں شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا نمبر پلیٹ، رجسٹریشن کے صوبے کا پہلا حرف اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ ۔

REG لکھ کر سپیس دے کر یہ معلومات 9771 پر بھیجیں ۔

مکمل تفصیلات www.pmfuelrelief.pk پر دستیاب ہیں ۔

پیٹرول پمپ مالکان سے معاہدہ


ابتداء میں پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اسکیم پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ڈیلرز کا کہنا تھا کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا اور ادائیگی کا طریقہ کار واضح نہیں ۔

تاہم، جمعرات کو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے بعد ڈیلرز نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے ڈیلرز کو اسکیم کے عمل سے آگاہ کیا ۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ڈیلرز کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اسکیم کے تحت جمع کرائے گئے تمام کلیم 48 گھنٹوں کے اندر پروسیس کر دیے جائیں گے ۔

پہلے مہینے کے لیے 250 ارب روپے اسٹیٹ بینک کو منتقل کر دیے گئے ہیں ۔ تین مہینوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں ۔

کنٹرول روم اور انٹرنیٹ مسائل


آئی ٹی کی وزارت نے پیٹرول پمپس کی مدد کے لیے ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کیا ہے۔ پیٹرول پمپ 9772 پر رابطہ کر کے مدد حاصل کر سکتے ہیں ۔

انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے والے علاقوں کے لیے متبادل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ان علاقوں میں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقے شامل ہیں ۔

اسحاق ڈار نے ہدایت دی ہے کہ اسٹیٹ بینک روزانہ دو بار، صبح 11 بجے اور شام 7 بجے، ادائیگیوں کی رپورٹ فراہم کرے ۔

پیٹرول ریلیف اسکیم میں 5 لیٹر کی شرط ختم 2026
موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو ہفتہ وار 500 روپے کا ٹوکن ملے گا

نتیجہ


پیٹرول ریلیف اسکیم
میں نئی تبدیلیوں سے لاکھوں چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو فائدہ پہنچے گا۔ 5 لیٹر کی شرط ختم ہونے سے کم آمدنی والے افراد بھی رعایت حاصل کر سکیں گے۔

اب تک لاکھوں افراد نے اسکیم کے لیے رجسٹریشن کروا لی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی اہل مستفید کو جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے سہولت سے محروم نہیں ہونا چاہیے ۔

By Addu Writes

اڈو رائٹس پر جانیے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، بزنس ٹرینڈز، ٹیکنالوجی اور آن لائن سکلز سے متعلق مستند اور معیاری مضامین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے